کربِ وجود، شعوری کشادگی کی فزکس اور ابدیت کا سنگِ میل: سورہ الم نشرح کا عمرانی، نفسیاتی اور الہیاتی ماسٹر پیس! - بلال شوکت آزاد
کربِ وجود، شعوری کشادگی کی فزکس اور ابدیت کا سنگِ میل: سورہ الم نشرح کا عمرانی، نفسیاتی اور الہیاتی ماسٹر پیس! - بلال شوکت آزاد انسانی تہذیب کی طویل اور خون آلود تاریخ میں، اور خصوصاً آج کی اس اکیسویں صدی کے انتہائی پیچیدہ، مشینی اور افراتفری سے بھرپور دور میں، اگر ہم انسانی نفسیات کا کسی کائناتی لیبارٹری میں تجزیہ کریں، تو ایک انتہائی ہولناک اور سفاک حقیقت ہمارے سامنے ننگی ہو کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ آج کا ماڈرن، ٹیکنالوجی سے لیس اور بظاہر دنیا کو مسخر کرنے والا انسان اندر سے ایک ایسے کھوکھلے پن، ڈپریشن، اور وجودی بحران (Existential Crisis) کا شکار ہو چکا ہے جس کا کوئی علاج آج کی جدید میڈیکل سائنس کے پاس موجود نہیں ہے۔ اربوں ڈالرز کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری انسان کو اینٹی ڈپریسنٹ گولیاں کھلا کر اس کے دماغ کو سن تو کر سکتی ہے، لیکن اس کی روح میں لگی ہوئی آگ کو نہیں بجھا سکتی۔ انسان محض گوشت، ہڈیوں اور کیمیکلز کا مجموعہ نہیں ہے کہ اسے محض لیبارٹری میں تیار کی گئی ادویات سے پرسکون کیا جا سکے۔ اس کی روح ایک ایسی بلند ترین ڈائمینشن کا حصہ ہے، جس کی بھوک اور جس کا کرب مادی دنیا کی کسی بھی تسک...