مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں کل تک عمان اور قطر وہ بزرگ تھے جو آزو بازو میں لڑتے جھگڑتے بچوں کے درمیان بیٹھ کر صلح کرواتے تھے اور آج خود ہی زخمی ہو کر کونے میں بیٹھے ہیں۔ایسے میں اچانک اسٹیج پر پاکستان کی انٹری ہوتی ہے۔ وہی پاکستان جسے کل تک کوئی سنجیدہ نہیں لیتا تھا آج سب کو ایک ہی میز پر بٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف امریکا ہے جو ہر مسئلے کا حل “ڈیل” میں تلاش کرتا ہے اور دوسری طرف ایران ہے جو ہر ڈیل کو “سازش” سمجھتا ہے۔ بیچ میں پاکستان ہے جو دونوں کو چائے پلا کر سمجھا رہا ہے کہ “بھائی نماز پڑھ، اس سے پہلے کہ تیری نماز پڑھی جائے”۔
ایرانی ترجمان کا یہ کہنا کہ ایک نشست میں معاہدہ ہونا ویسے بھی ممکن نہیں تھا بالکل برحقائق ہے اور اس سے مجھے سالانہ امتحان کے دنوں میں اپنے بیٹے کا قول زریں یاد آ گیا تھا “پڑھ تو رہا ہوں لیکن پورا کورس ایک رات میں نہیں پڑھا جا سکتا تھا”۔ دوسری جانب امریکا کا اشارہ ہے کہ عنقریب دوسرا راؤنڈ اسلام آباد میں ہو سکتا ہے، ایران شدت سے معاہدہ چاہتا ہے۔اور ٹرمپ کو بھی ایک ہی مضمون یاد ہے “مائی بیسٹ فرینڈ”۔ اس بیچ پاکستان گنگناتا سنائی دے رہا ہے
آئیے مہرباں، بیٹھئیے جانِ جاں
شوق سے لیجئیے عشق کے امتحاں
البتہ خوش آئند منظر یہ ہے فریقین نے اپنے مؤقف میں نرمی ضرور دکھائی ہے لیکن یہ نرمی ویسی ہی ہے جیسے دو پہلوان لڑائی کے بعد ایک دوسرے کو دیکھ کر کہیں “آج نہیں، تجھے کل دیکھوں گا”۔ میدان ابھی بھی وہی ہے، ضد بھی وہی ہے، صرف لہجہ بدلہ ہے۔اور یہ تبدیلی مثبت پیش رفت کا اشارہ ہے۔ اُدھر امریکا کو اپنے خلیجی دوستوں کو بھی خوش رکھنا ہے اور چین کے بالخصوص ایران اور بالعموم عربوں پر بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کا بھی خیال رکھنا ہے۔ گویا ایک ہی وقت میں دو کشتیوں میں سوار ہونے کی کوشش جاری ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اب دریا بھی تیز ہے اور کشتیوں کے نیچے پانی بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔
اصل مسئلہ صرف ایک ہی ہے۔ جوہری پروگرام۔بات وہیں آ کر رک جاتی ہے جہاں انا اور بقا ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہو جائیں۔باقی سب نکات تو صرف گفتگو کو طول دینے کے بہانے ہیں۔یا زیبِ داستان کے لیے ہیں۔ اور پھر بیچ میں بیچارہ آبنائے ہرمز ہے جسے ہر کوئی اپنی مرضی سے کھولنا اور بند کرنا چاہتا ہے۔خوشی کی بات یہ ہے کہ اب کھلی جنگ کم اور الزامات زیادہ ہو گئے ہیں۔ یعنی بم کم اور گفتگو زیادہ چل رہی ہے۔آخر میں امید کا دامن پکڑنا ہی پڑتا ہے۔ شاید اگلے مذاکرات میں کوئی راستہ نکل آئے، شاید دونوں فریق ایک دوسرے کو برداشت کر کے آگے بڑھنا سیکھ لیں اور شاید دنیا کو بھی کچھ سکون نصیب ہو جائے۔لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک یہ سفارتی اسٹیج سجا رہے تو بہتر ہے۔ یہ وہ اسٹیج ہے جہاں ہر کردار خود کو فاتح ہیرو سمجھتا ہے اور تماشائی پوری دنیا ہے۔
عقل یہی کہتی ہے میدان جنگ میں کوئی ہارے یا جیتے لیکن مذاکرات کی میز پر کوئی فریق نہیں ہارنا چاہے گا۔ ہر فریق کو اپنی عوام کے لئے “فتح” چاہئیے۔ کچھ لو اور کچھ دو ہی مذاکرات کا محور ہوتے ہیں۔ فیس سیونگ کی راہ تلاشنے میں البتہ ایک کمال ہو گیا ہے۔اور وہ یہ کہ کوئی جیتے یا ہارے اس پر شکوک برقرار رہ سکتے ہیں البتہ پاکستان نے بقائے انسانی کی جنگ واضح طور پر جیت لی ہے۔ تو یہ ہے خدا کی شان اور وہ ہے پاکستان پر کچھ اس طرح مہربان کہ پاک بھارت جنگ میں سب سے بھاری نقصان پہنچا تو پاکستان کے ہاتھوں فرانس کو پہنچا اور امریکا۔اسرائیل ایران جنگ میں کوئی کامیاب ہوتا دکھائی دیتا ہے تو پاکستان دکھائی دیتا ہے۔
خدا بڑا مسبب الاسباب ہے۔ گردشِ دوراں سے وہ وقت آ گیا کہ جو ملک کل تک اپنے معاشی نسخے آئی ایم ایف سے پوچھ کر بناتا تھا آج وہی عالمی طاقتوں کو امن کے نسخے دے رہا ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ سب سن بھی رہے ہیں، سر بھی ہلا رہے ہیں، اور جاتے جاتے شاباش بھی دے رہے ہیں۔وہ ملک اس وقت نہ صرف خطے کا “ایونٹ مینیجر” بنا ہوا ہے بلکہ عالمی امن کی اُمید بھی دکھائی دیتا ہے۔کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ پاکستان نے صرف سفارتی پیغام رسانی ہی نہیں کی بلکہ ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کو بھی قائل کرنے کی کوشش کی کہ بھائی امن میں ہی سب کا فائدہ ہے۔ گویا ایک ایسا گروپ پروجیکٹ جس میں سب کو شامل کرنا بھی ہے اور نمبر بھی پورے لینے ہیں۔
ماننا پڑے گا سعودی عرب کے معاملے میں تو واقعی کمال کر دیا۔ نہ ایران کے خلاف میدان میں کودے، نہ ریاض کو ناراض کیا بلکہ انہیں یہ بھی یقین دلایا کہ ہم یہ سب آپ کے ہی فائدے کے لیے ہی تو کر رہے ہیں۔ سفارتکاری کا یہ درجہ اگر یونیورسٹی میں پڑھایا جائے تو یقیناً گولڈ میڈل پکا ہے۔پھر خبریں آئیں کہ سعودی عرب تین ارب ڈالرز ڈیپازٹ دے سکتا ہے تاکہ امارات کو ادائیگی کی صورت میں پاکستان کا فارن ریزرو برقرار رہے۔ سونے پہ سہاگا قطر بھی مدد کو تیار ہے اور سرمایہ کاری کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ یعنی امن کے بدلے “کیش بیک آفر” بھی مل رہی ہے۔ ایسی ڈیل تو عام صارف کو بھی نصیب نہیں ہوتی۔ گوادر اور کراچی بندرگاہ مستقبل میں تجارتی حب میں ڈھلنے کے امکانات روشن کر دیے ہیں۔اب پاکستان کے عزائم بھی بڑے ہو گئے ہیں۔ صرف ثالثی نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کا “سیکیورٹی گارنٹر” بننے کی امیدیں جاگ رہی ہیں۔
کل کیا ہوگا؟ وہ کل دیکھیں گے۔ فی الحال تو دنیا ہمیں امن کا ہیرو کہہ رہی ہے، اور ہم بھی یہی ماننے پر تیار ہیں۔فی الحال تو تمغہ سنبھالیں اور اپنے ملک کی نیک نامی پر خوش ہو لیں۔رنگ میں بھنگ ڈالنے، منہ بسورنے ، جلنے کڑھنے اور طعنے مینے کسنے کو بھارت، اسرائیل اور افغانستانی رجیم اور ان کے ہمنوا کافی ہیں۔ اگر آپ کو بوجوہ پاکستان کی کامیابی برداشت نہیں ہو رہی تو اس سیاسی خلفشار کا اظہار کرنا “عذرِ گناہ بدتر از گناہ” کے مترادف ہے۔ انسان بولنا تو ابتدائی دو سال میں سیکھ جاتا ہے لیکن کب کیا بولنا ہے، اور کب خاموش رہنا ہے یہ سیکھنے میں عمر گزر جاتی ہے۔جی یہاں میں انسانوں کی بات کر رہا ہوں، گدھوں کی نہیں۔
( facebook.com/mehdi.bukhari )

Comments
Post a Comment