کربِ وجود، شعوری کشادگی کی فزکس اور ابدیت کا سنگِ میل: سورہ الم نشرح کا عمرانی، نفسیاتی اور الہیاتی ماسٹر پیس! - بلال شوکت آزاد

 

کربِ وجود، شعوری کشادگی کی فزکس اور ابدیت کا سنگِ میل:
سورہ الم نشرح کا عمرانی، نفسیاتی اور الہیاتی ماسٹر پیس! - بلال شوکت آزاد
انسانی تہذیب کی طویل اور خون آلود تاریخ میں، اور خصوصاً آج کی اس اکیسویں صدی کے انتہائی پیچیدہ، مشینی اور افراتفری سے بھرپور دور میں، اگر ہم انسانی نفسیات کا کسی کائناتی لیبارٹری میں تجزیہ کریں، تو ایک انتہائی ہولناک اور سفاک حقیقت ہمارے سامنے ننگی ہو کر کھڑی ہو جاتی ہے۔
آج کا ماڈرن، ٹیکنالوجی سے لیس اور بظاہر دنیا کو مسخر کرنے والا انسان اندر سے ایک ایسے کھوکھلے پن، ڈپریشن، اور وجودی بحران (Existential Crisis) کا شکار ہو چکا ہے جس کا کوئی علاج آج کی جدید میڈیکل سائنس کے پاس موجود نہیں ہے۔
اربوں ڈالرز کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری انسان کو اینٹی ڈپریسنٹ گولیاں کھلا کر اس کے دماغ کو سن تو کر سکتی ہے، لیکن اس کی روح میں لگی ہوئی آگ کو نہیں بجھا سکتی۔ انسان محض گوشت، ہڈیوں اور کیمیکلز کا مجموعہ نہیں ہے کہ اسے محض لیبارٹری میں تیار کی گئی ادویات سے پرسکون کیا جا سکے۔ اس کی روح ایک ایسی بلند ترین ڈائمینشن کا حصہ ہے، جس کی بھوک اور جس کا کرب مادی دنیا کی کسی بھی تسکین سے ختم نہیں ہوتا۔
جب ایک حساس انسان اس دنیا کی بے حسی، معاشرے کے ظلم، منافقت اور معاشی و سماجی ناہمواریوں کو دیکھتا ہے، تو کائنات کی اس پیچیدہ فزکس میں اس کے اعصاب پر ایک ایسا ہولناک بوجھ پڑتا ہے جو اس کے بائیولوجیکل اور نفسیاتی ہارڈویئر کو کریش کرنے کے قریب لے جاتا ہے۔
آج سے چودہ سو سال قبل، تاریخ کے سب سے تاریک اور وحشت ناک دور میں، جب مکہ کا معاشرہ ایک انتہائی سفاک، جاہلانہ اور استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا، اس وقت کائنات کے سب سے پرفیکٹ، حساس، اور بلند ترین شعور رکھنے والے انسان، یعنی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے کندھوں پر انسانیت کی بیداری اور ہدایت کا وہ دیوہیکل اور اعصاب شکن بوجھ ڈالا گیا، جس کے تصور سے ہی پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جاتے۔
مکہ کا وہ معاشرہ جہاں بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا فخر سمجھا جاتا تھا، جہاں سود کے ذریعے غریبوں کا خون چوسا جاتا تھا، جہاں طاقتور کمزور کو کھا رہا تھا، اس معاشرے کی اس درندگی کو دیکھ کر ایک کامل اخلاق والے نبی کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟
ان کے اعصاب کس کرب سے گزرتے ہوں گے؟
اس ہولناک دباؤ اور اس شدید ترین نفسیاتی کشمکش کے عین درمیان، کائنات کے الٹیمیٹ پروگرامر نے اپنے محبوب کی بائیولوجیکل اور روحانی ہارڈ ڈرائیو کو کس طرح ایک ایسا کائناتی اپ گریڈ (Cosmic Upgrade) دیا جس نے مایوسی، کرب اور دباؤ کی تمام فزکس کو ہمیشہ کے لیے پاش پاش کر دیا؟
قرآنِ مجید کی سورہ الم نشرح محض چند آیات پر مشتمل کوئی پرانا قصہ یا محض ایک عام دلاسہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی نفسیات، کاگنیٹو سائنس (Cognitive Science) اور الہیاتی تھرمو ڈائنامکس کا وہ الٹیمیٹ، پرفیکٹ اور دیوہیکل ماسٹر پیس ہے، جسے اگر آج کا مایوسی میں ڈوبا ہوا انسان اپنے نیورل سرکٹس (Neural Circuits) میں بٹھا لے، تو دنیا کا کوئی بھی دکھ، کوئی بھی ناکامی اور کوئی بھی دباؤ اسے شکست نہیں دے سکتا۔
اس عظیم الشان اور کائناتی سورت کا آغاز باری تعالیٰ کسی رسمی تمہید، کسی واقعے یا کسی سخت حکم سے نہیں کرتا، بلکہ وہ اپنے محبوب ﷺ کی نفسیاتی اور بائیولوجیکل حالت کا ایک انتہائی گہرا، سیدھا، شفقت بھرا اور دیوہیکل حوالہ دے کر ایک سوالیہ اور مکالماتی انداز میں فرماتا ہے:
”أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ۝“
(ترجمہ: (اے حبیب!) کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ کشادہ نہیں فرما دیا؟ [الشرح: 1])
یہ قرآنی آیت محض الفاظ کا مجموعہ یا ایک سادہ سی سطر نہیں ہے، بلکہ یہ ایپسٹی مولوجی (Epistemology) اور انسانی دماغ کی نیوروپلاسٹی سٹی (Neuroplasticity) کا الٹیمیٹ کائناتی عروج ہے۔
"شرحِ صدر" کا مطلب محض سینے کا فزیکل طور پر چوڑا ہونا یا کوئی عام بائیولوجیکل سرجری نہیں ہے، بلکہ سائنس، نفسیات اور الہیات کے سنگم پر کھڑے ہو کر دیکھیں تو یہ انسان کے کاگنیٹو اور روحانی ریسپٹرز (Receptors) کی اس حد تک کشادگی، وسعت اور تیاری ہے کہ وہ کائنات کے سب سے بھاری اور ہائی فریکوئنسی سورس کوڈ یعنی "وحی" کی طاقت کو اپنے اندر ڈاؤنلوڈ کرنے اور اسے برداشت کرنے کی صلاحیت پا لے۔
جب ایک سچے اور خالص انسان پر کائنات کے چھپے ہوئے اسرار کھلتے ہیں، جب اسے اپنے اردگرد پھیلی ہوئی معاشرے کی جہالت، ظلم، اندھی تقلید اور منافقت کا ننگا اور بدصورت چہرہ نظر آتا ہے، تو اس کا دماغ اور اس کا سینہ ایک شدید گھٹن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ وہ اس اندھے معاشرے میں تنہا ہے اور اس کی بات کوئی سمجھنے والا نہیں۔
مکہ کے اس سفاک، جاہل اور استحصالی نظام کے بیچ کھڑے ہو کر جب رسولِ کائنات ﷺ نے اکیلے حق کا نعرہ لگایا، تو پوری دنیا، اپنے پرائے، رشتے دار اور قبیلے والے ان کے دشمن بن گئے۔
اس چاروں طرف سے پڑنے والے دباؤ نے آپ کی بشری حسیت پر کتنا بوجھ ڈالا ہوگا؟
ایسے کٹھن مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
اے میرے محبوب! کیا ہم نے آپ کی ہارڈ ڈرائیو کو، آپ کے قلب اور آپ کے شعور کو وہ الٹیمیٹ وسعت، وہ لامحدود سکون اور وہ کائناتی نور عطا نہیں کر دیا جس کے بعد اب دنیا کا کوئی خوف، کوئی دکھ، کوئی مادی نقصان اور کوئی بھی مخالفت آپ کے اعصاب کو نہیں توڑ سکتی؟ ہم نے آپ کے سینے کو حق کی اس بلند ترین فریکوئنسی پر سیٹ کر دیا ہے کہ اب باطل کی کوئی بھی طاقت، کوئی بھی طعنہ اور کوئی بھی سازش آپ کو متزلزل نہیں کر سکتی۔ آپ کے سینے میں اب کائنات کی وسعتیں سمٹ آئی ہیں۔
یہ "شرحِ صدر" دراصل وہ الہامی اور بائیولوجیکل اپ گریڈ تھا جس نے ایک انسانِ کامل کو کائنات کا سب سے بڑا، سب سے صابر اور سب سے طاقتور لیڈر بنا دیا۔ کائنات کا رب بتا رہا ہے کہ جب ہم کسی کو عظیم مشن کے لیے چنتے ہیں، تو ہم اس کی نفسیاتی اور اعصابی استعداد کو بھی اسی کائناتی تناسب سے بڑھا دیتے ہیں۔
اس عظیم الشان شعوری کشادگی کا حوالہ دینے کے بعد، کائنات کا خالق اس ہولناک، اعصاب شکن اور دیوہیکل بوجھ کا ذکر کرتا ہے جو اس جاہلانہ نظام کو بدلنے کی فکر کے نتیجے میں آپ ﷺ کے وجود پر لدا ہوا تھا،
فرمایا:
”وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ ۝ الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ ۝“
(ترجمہ: اور ہم نے آپ کا وہ بوجھ آپ سے اتار دیا۔ جس نے آپ کی پیٹھ توڑ رکھی تھی (یا جھکا دی تھی) [الشرح: 2-3])
ذرا اس الہیاتی، عمرانی اور نفسیاتی مساوات کے کرب کو محسوس کریں!
عقلِ انسانی دنگ رہ جاتی ہے کہ یہ آخر کون سا بوجھ تھا جس نے کائنات کے سب سے طاقتور، سب سے صابر اور سب سے کامل انسان کی پیٹھ کو جھکا دیا تھا، اسے ٹوٹنے کے قریب کر دیا تھا؟
یہ کوئی پہاڑوں، پتھروں کا، سرمائے کا یا کسی مادی مشقت کا بوجھ نہیں تھا۔ تاریخ اور سیرت اس بات پر گواہ ہے کہ یہ بوجھ اس بے پناہ اور لامحدود درد کا تھا جو آپ ﷺ پوری انسانیت کے لیے اپنے سینے میں رکھتے تھے۔ یہ بوجھ اس اذیت کا تھا جو آپ مکہ کی گلیوں میں دیکھتے تھے۔ یہ بوجھ ان معصوم بچیوں کی دبتی ہوئی چیخوں کا تھا جو اپنے ہی باپ کے ہاتھوں زندہ درگور کی جا رہی تھیں، یہ بوجھ اس سفاک سرمایہ دارانہ اور قبائلی نظام کا تھا جو غلاموں اور غریبوں کا خون چوس کر اپنے محلات کھڑے کر رہا تھا، یہ بوجھ اس گمراہی اور شرک کا تھا جس میں آپ کی قوم مبتلا ہو کر جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں گرنے کے لیے تیار تھی۔
ایک انتہائی اعلیٰ ترین اخلاقی شعور اور کامل ہمدردی (Empathy) رکھنے والے انسان کے لیے اپنے اردگرد کی اس ہولناک جہالت اور معاشرتی اینٹروپی (Entropy) کو دیکھنا، اسے محسوس کرنا اور اسے ٹھیک کرنے کی تڑپ رکھنا، دنیا کا سب سے بھاری اور اعصاب شکن بوجھ ہوتا ہے۔
جب انسان کی روح کائنات کی سچائی سے ہم آہنگ ہو، تو اسے معاشرے کا ہر ظلم اپنی ذات پر ہونے والا ظلم محسوس ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ
اے محبوب! آپ جس درد، جس کرب اور جس فکر میں اپنی جان کو گھلا رہے تھے، اور جس غم نے آپ کی پیٹھ کو دہرا کر دیا تھا، ہم نے آپ کے اس ذہنی، جذباتی اور روحانی بوجھ کو اپنے کائناتی تسلی کے ذریعے آپ کے کندھوں سے اتار دیا ہے۔ ہم نے یہ بوجھ کیسے اتارا؟ ہم نے آپ کو وحی کی وہ ناقابلِ تسخیر طاقت، وہ کائناتی حکمتِ عملی، وہ فرشتوں کی معیت اور وہ الہیاتی سپورٹ سسٹم دے دیا ہے کہ اب آپ اس میدانِ جنگ میں تنہا نہیں ہیں، بلکہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اور اس کی پوری فزکس آپ کے اس مشن کے پیچھے کھڑی ہو چکی ہے۔
یہ دراصل وہ الٹیمیٹ سائیکولوجیکل ریلیف (Psychological Relief) اور بوجھ کی منتقلی تھی جس نے آپ ﷺ کو اس معاشرے کے استحصالی میٹرکس سے لڑنے کے لیے ایک ایسی ناقابلِ شکست قوت عطا کی، جس کے سامنے بعد ازاں قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں ریت کی دیوار ثابت ہوئیں۔
اس بوجھ کو اتارنے اور نفسیاتی راحت فراہم کرنے کے بعد، کائنات کا رب تاریخِ انسانی کا وہ دیوہیکل، سفاک، ریاضیاتی اور ناقابلِ تردید سچ بولتا ہے جس نے مکہ کے متکبر سرداروں سے لے کر آج کے جدید ماڈرن میڈیا، عالمی کارپوریشنز اور ٹیکنالوجی کے خداؤں تک، سب کے غرور کو خاک میں ملا کر رکھ دیا ہے،
فرمایا:
”وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۝“
(ترجمہ: اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر (دنیا و آخرت میں) بلند کر دیا [الشرح: 4])
یہ آیت قرآنی ایپسٹی مولوجی، انسانی تاریخ اور ابدیت کا وہ الٹیمیٹ کلائمیکس ہے جس کی کوئی دوسری مثال اس کرہِ ارض پر تو کیا، پوری کائنات میں موجود نہیں۔
مکہ کے وہ جاہل، سرمائے کے نشے میں دھت اور متکبر سردار (ابو لہب، ابو جہل، ولید بن مغیرہ) جو اپنی طاقت کے زعم میں آپ ﷺ کو معاذ اللہ مٹانے، آپ کا نام تاریخ سے ختم کرنے، آپ کو 'ابتر' (نعوذ باللہ مقطوع النسل) کہنے اور آپ کی تحریک کو دبا کر ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے، کائنات کے ماسٹر مائنڈ نے ان کے اس ہولوگرافک سراب کو کس بے دردی اور شان کے ساتھ توڑا؟
اللہ نے فرمایا کہ
اے محبوب! آپ کے ذکر، آپ کے نام، آپ کے مقام اور آپ کے نظریے کو ہم نے اس کائنات کے مین سرور پر اتنی بلندی پر انکرپٹ (Encrypt) اور لاک (Lock) کر دیا ہے کہ اب قیامت تک کوئی ٹیکنالوجی، کوئی سپر پاور، کوئی بھی نیا ورلڈ آرڈر اور کوئی بھی ظالمانہ نظام اسے ڈیلیٹ (Delete) یا ماند نہیں کر سکتا۔
آج جدید سائنس، گلوبلائزیشن، سوشل میڈیا اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے اس دور میں ذرا کھڑے ہو کر اس آیت کا الٹیمیٹ رئیلٹی چیک (Reality Check) کریں۔ دنیا کا ٹائم زون، طول بلد اور عرض بلد کچھ اس ریاضیاتی کمال سے کام کرتا ہے کہ ہر سیکنڈ، ہر لمحے، کائنات کے کسی نہ کسی حصے میں مؤذن کی آواز گونج رہی ہوتی ہے اور "أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ ٱللَّٰهِ" کی ہائی فریکوئنسی شعاعیں اور صوتی لہریں زمین کے کرہِ ہوائی کو چیر رہی ہوتی ہیں۔
زمین کا کوئی خطہ، کوئی ایک سیکنڈ بھی ایسا نہیں گزرتا جب اس نام کی منادی نہ ہو رہی ہو۔ تاریخ کے بڑے بڑے بادشاہ آئے، فرعون، نمرود، سکندر اور چنگیز خان آئے، فلاسفر اور فاتحین آئے، ان کی سلطنتیں مٹی میں مل گئیں، ان کے محلات کھنڈر بن گئے، ان کے نام محض تاریخ کی کتابوں کے بوسیدہ پنوں اور عجائب گھروں میں دفن ہو گئے، لیکن ایک وہ نام جو مکہ کی ان تپتی ہوئی اور گمنام وادیوں سے ایک یتیم کی صورت میں اٹھا تھا، آج دنیا کے دو ارب سے زائد انسانوں کے دلوں کی دھڑکن، ان کی مساجد کے منبر، ان کے درود و سلام کے ورد، اور ان کے نیورل نیٹ ورکس کا الٹیمیٹ اور دھڑکتا ہوا مرکز ہے۔
یہ "وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ" کی وہ کائنیٹک، تاریخی اور سائنسی سچائی ہے جس کے سامنے جدید دنیا کی ہر سرچ انجن آپٹیمائزیشن (SEO)، ہر ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ہر پروپیگنڈا اور ہر پی آر مہم (PR Campaign) مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور اور بے وقعت ہے۔
جس کا نام کائنات کا خالق بلند کر دے، اسے زمین کے کیڑے کیسے مٹا سکتے ہیں؟
انسان کی نفسیات، اس کی عظمت اور اس کے مشن کی ابدیت کو ڈی کوڈ کرنے کے بعد، اب کائنات کا خالق روئے زمین کے ہر انسان کے لیے، دنیا کی ہر تکلیف، ہر درد، ہر ناکامی اور ہر کرب کا وہ سائنسی، کوانٹم اور الہیاتی فارمولا دیتا ہے جو اگر کوئی بھی انسان اپنے شعور میں اتار لے، تو اس کی روح کبھی ڈپریشن، خودکشی یا مایوسی کے اندھے بلیک ہول میں نہیں گر سکتی،
فرمایا:
”فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۝ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۝“
(ترجمہ: پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے [الشرح: 5-6])
یہاں عربی گرامر، فزکس اور الہیاتی نفسیات کا وہ کمال چھپا ہے جس نے آج کے جدید ترین ماہرینِ نفسیات (Psychologists) کو دنگ کر دیا ہے۔ ہم انسان ہمیشہ سے اپنی محدود عقل کے تحت یہ سنتے، بولتے اور سمجھتے آئے ہیں کہ "مشکل کے بعد آسانی آتی ہے"، لیکن کائنات کا رب یہاں حرف "بَعْدَ" (After) یعنی وقت کے بعد کا تصور استعمال نہیں کر رہا، بلکہ وہ "مَعَ" (With / کے ساتھ) کا لفظ استعمال کر رہا ہے۔
ذرا اس الہیاتی کوانٹم مساوات (Quantum Equation) کی گہرائی کو سمجھیں!
اللہ فرما رہا ہے کہ
جس لمحے، جس مائیکرو سیکنڈ میں تجھ پر کائنات میں کوئی مشکل، کوئی اندھیرا، کوئی تکلیف یا کوئی کرب نازل ہوتا ہے، عین اسی مائیکرو سیکنڈ میں، اسی مشکل کے بطن میں، اسی کے بالکل متوازی تیری آسانی، تیری نجات اور تیرا الٹیمیٹ سلوشن (Solution) بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ مشکل اور آسانی ایک دوسرے کے ساتھ کوانٹم اینٹینگلڈ (Quantum Entangled) ہیں۔ جس طرح روشنی کے بغیر سائے کا وجود ممکن نہیں، اسی طرح تیرا درد اور تیری شفا ایک ساتھ کائنات کے سرور سے ڈاؤنلوڈ ہوتے ہیں۔
مسئلہ تیری کائنات میں نہیں، مسئلہ تیرے محدود شعور میں ہے جو اس وقت درد اور تکلیف کی شدت میں اس قدر اندھا ہو جاتا ہے کہ وہ اس آسانی کو دیکھ نہیں پاتا جو اس مشکل کے بالکل ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔
اور اس زبردست کائناتی اصول پر حتمی تاکید کے لیے، کائنات کے رب نے اس جملے کو ایک بار نہیں، بلکہ دو بار دہرایا ہے تاکہ انسان کے ذہن سے ہر شک مٹ جائے۔ یہ انسان کے ٹوٹتے ہوئے اعصاب، اس کی شدید مایوسی اور اس کے بکھرتے ہوئے نیورل سرکٹس کے لیے کائنات کا سب سے بڑا اور حتمی اینٹی وائرس ہے۔
جب تمہاری زندگی میں عسر (تنگی، بے روزگاری، بیماری، یا رشتوں کا ٹوٹنا) آ جائے، تو گھبرا کر خودکشی یا کفر کی طرف مت بھاگنا، بلکہ یاد رکھنا کہ اسی تاریک میٹرکس کے اندر تمہاری یسر (کشادگی، ترقی اور نجات) بھی چھپی ہوئی ہے، تمہیں بس اپنے رب کی فریکوئنسی پر الائن رہ کر اس کشادگی کو تلاش کرنا ہے۔ رات کی سب سے گہری تاریکی ہی دراصل فجر کے طلوع ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہوتی ہے۔
اور پھر، اس تمام ضخیم نفسیاتی، تاریخی اور کائناتی مرہم کے بعد، سورت کا اختتام انسان کے لائف سٹائل، اس کی کائنیٹک انرجی کے استعمال اور اس کے الٹیمیٹ فوکس کے اس پرفیکٹ پروٹوکول (Protocol) پر ہوتا ہے جس کے بغیر انسان دوبارہ اسی گھٹن، بے مقصدی اور ڈپریشن کا شکار ہو سکتا ہے،
فرمایا:
”فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ ۝ وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب ۝“
(ترجمہ: پس جب آپ (اپنے فرائض سے) فارغ ہوں تو (عبادت کی) مشقت میں لگ جائیں۔ اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت (مکمل توجہ) رکھیں [الشرح: 7-8])
یہ کائنات کی تھرمو ڈائنامکس اور انسانی بائیولوجی کا الٹیمیٹ اور اٹل قانون ہے۔ انسان کی ہارڈ ڈرائیو کو اس طرح ڈیزائن ہی نہیں کیا گیا کہ وہ مکمل طور پر فارغ بیٹھ سکے۔ جیسے ہی انسان فارغ ہوتا ہے، اس کے اندر کی انرجی نیگیٹو (Negative) ہونا شروع ہو جاتی ہے اور وہ اسے ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے نامعلوم خوف میں مبتلا کر دیتی ہے۔
فارغ دماغ شیطان کی سب سے بہترین لیبارٹری ہوتا ہے۔
اللہ فرما رہا ہے کہ
اے انسان! جب تو اپنے دنیاوی فرائض، اپنے روزگار، اپنی سماجی جدوجہد اور اپنے دن بھر کے کاموں سے فارغ ہو جائے، تو اسکرینوں کے سامنے بیٹھ کر، لغو محفلوں میں جا کر اپنی ڈوپامائن (Dopamine) کو برباد کرنے اور فضولیات میں پڑنے کے بجائے، خود کو ایک نئی، مثبت اور ہائی فریکوئنسی مشقت میں ڈال دے۔ یعنی اپنی تھکاوٹ کو دور کرنے کا طریقہ سستی نہیں ہے، بلکہ اپنے کائناتی سرور سے کنیکٹ ہونے کے لیے عبادت، مراقبے، ذکر اور سجدے کی مشقت اختیار کر۔ اپنے جسم کی بچی ہوئی انرجی کو اپنے رب کے سامنے گراؤنڈ (Ground) کر دے، کیونکہ روحانی مشقت جسمانی مشقت کی سب سے بڑی دوا ہے۔
اور تیری اس تمام مشقت، تیری زندگی کے ہر عمل، تیری ہر دھڑکن، تیری محبتوں اور تیری نفرتوں کا الٹیمیٹ مرکز اور فوکس کون ہونا چاہیے؟
”وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب“
اپنی پوری رغبت، اپنی پوری محبت، اپنی تمام تر امیدیں اور اپنے دماغ کا پورا فوکس صرف اور صرف اس ایک الٹیمیٹ سنگولیریٹی (Singularity)، یعنی اپنے رب کی طرف موڑ دے۔ جب تیرا فوکس، تیرا قبلہ اس دنیا کے استحصالی نظام، لوگوں کی جھوٹی تعریف اور مادی خواہشات کے سراب سے ہٹ کر صرف کائنات کے خالق کی رضا پر لاک (Lock) ہو جائے گا، تو پھر نہ کوئی عسر تجھے توڑ سکے گا، نہ کوئی بوجھ تیری پیٹھ جھکا سکے گا، اور نہ ہی تیری ہارڈ ڈرائیو کبھی دنیا کے دباؤ سے کریش ہوگی۔
سورہ الم نشرح کی یہ مدلل، سائنسی اور کائناتی تلخیص اور تطبیق آج کے اس ڈپریشن اور مایوسی کے مارے ہوئے جدید انسان کے لیے ایک الٹیمیٹ رئیلٹی چیک اور زندگی کی بقا کا نسخہِ کیمیا ہے۔
یہ سورت ہمیں پوری صراحت سے بتاتی ہے کہ تمہارا سینہ اور تمہاری سوچ تب ہی کشادہ ہوگی جب تم حق اور سچ کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار ہو گے۔ تمہارا نام اور تمہارا کام تب ہی ابدیت پائے گا اور بلند ہوگا جب تم کائنات کے سب سے عظیم نام ﷺ کے ساتھ اپنا فکری الائنمنٹ درست کرو گے۔ اور تمہاری ہر مشکل، ہر تنگی اور ہر درد کے اندر ہی تمہاری آسانی کی الہامی کنجی چھپی ہوئی ہے۔
فیصلہ اب تمہارے اپنے نیورل سرکٹس اور شعور کے ہاتھ میں ہے کہ تم اینگزائٹی اور ڈپریشن کی دوائیاں کھا کر اس دجالی نظام کے غلام بنے رہتے ہو،
یا پھر سورہ الم نشرح کے اس کوانٹم فارمولے کو اپنی روح اور اپنے اعمال میں اتار کر اپنی زندگی کی ڈائریکشن کو ہمیشہ کے لیے اپنے الٹیمیٹ رب کی طرف موڑ دیتے ہو! کائنات کا سرور آج بھی تمہارے اس الٹیمیٹ کنکشن اور تمہاری سچی رغبت کا منتظر ہے۔
( facebook.com/BilalShoukatAzadOfficial )

Comments

Popular posts from this blog

Get out of the world of assumptions.

Russian war costs rise to unprecedented new heights ,