Fertile Minds of Fertile Land Two Economists, Two Successful Foreign Ministers :

 

زرخیز زمین کے زرخیز ذہن
دو اقتصادی ماہر ٫ دو کامیاب وزیر خارجہ
محمد منیرالدین
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ مسلم لیگ ( ن ) کی حکومت نے اپنے ایک معاشی ماہر کو امور خارجہ کے شعبہ میں آزمایا ہو وہ اسحاق ڈار سے قبل ایسا ہی تجربہ سرتاج عزیز کی شکل میں بھی کرچکی ہے اور دونوں مرتبہ اس کے اکنامک مینجر خارجہ امور کے شعبہ میں ناکام ثابت نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے توقع سے بڑھ کر اچھی کارکردگی کامظاہرہ کیا-

۔ اسحاق ڈار ایک بڑے عالمی تنازع کے موقع پر پاکستانی وزرات خارجہ کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں ۔ ان کی بنیادی وجہ شہرت اگرچہ ایک اقتصادی ماہر کی رہی ہے لیکن عالمی سفارت کاری کے حوالے سے ان کی کارکردگی کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پرکافی سراہا جارہا ہے ۔
کئی مواقع پر وزرات خارجہ بہت سے لوگوں کے لئے عالمی رہنماوٴں سے تعارف اور ان کی انفرادی ترقی کا موثر ذریعہ ثابت ہوتی رہی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی عملی سیاست میں قدم رکھنے سے قبل ملک کے وزیر خارجہ تھے ۔ شہید بھٹو کے بعد ان کے نواسے بلاول بھٹو زرداری نے بھی پی ڈی ایم حکومت کا وزیر خارجہ بن کر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا خوب لوہا منوایا لیکن اس بار پیپلز پارٹی نے خدا جانے کیوں پیشکش کے باوجود وفاقی حکومت میں وزارتیں نہیں لیں ممکن ہے کہ اسے اب اپنے اس فیصلے پر پچھتاوا بھی ہو ۔

اس وقت پورے خطے میں جو جنگی ماحول بنا ہوا ہے اس کے دوران پاکستان نے اپنی متوازن سفارت کاری سے عالمی سطح پر بہت زیادہ عزت اور شہرت کمائی ہے اگر تاریخ کے اس اہم موڑ پر بلاول بھٹو زرداری ملک کے وزیر خارجہ ہوتے تو سفارتی سطح پر ان کامیابیوں کا سہرا تنہا صرف مسلم لیگ (ن) کو نہیں جاتا بلکہ پیپلز پارٹی بھی اس میں برابر کی شراکت دار ہوتی ۔ یہ تاریخی موقع پیپلز پارٹی کی سیاسی ساکھ اور بلاول کے روشن سیاسی مسقتبل کے سلسلے میں ایک سنگ میل ثابت ہوسکتا تھا لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ وقت اور موقع کسی کا انتظار نہیں کرتے،

اس وقت اسحاق ڈار وزیر خارجہ ہیں انہوں نے ایک بڑے عالمی بحران کے زمانے میں جس کامیابی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں اس کے سبب ہر کوئی ان کی تعریف کرتا نظر آتا ہے ۔ سوشل میڈیا پر کئی دن سے بہت سے لوگ اس معاملے پر رائے زنی کرکے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی اس لئے محفوظ سیاسی راستہ یہی ہے کہ وفاق میں وزارتیں لینے کے بجائے ملک کے اہم اور بڑے آئینی عہدے لے لئے جائیں تاکہ موجودہ حکومت اگر معاشی محاذ پر بہتر کارکردگی نہ دکھاسکے تو اس کا تنہا بوجھ وہ خود اٹھائے اور پیپلز پارٹی عوامی سطح پر ہر قسم کی بدنامی سے محفوظ رہے لیکن بعد کے حالات بہت سے لوگوں کی توقعات کے بالکل برعکس ثابت ہوئے۔

موجودہ حکومت نے نہ صرف ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا بلکہ حالیہ جنگی ماحول میں جب پاکستان کو ایک بڑے سفارتی چیلنج کا سامنا ہوا تو اس وقت بھی اس نے انتہائی تدبر کے ساتھ درست حکمت عملی اپنا کر عالمی سطح پر پاکستان کے لئے بے پناہ عزت و تکریم حاصل کی ۔

حالیہ جنگی حالات نے اس حقیقت کو بھی سب کے سامنے آشکار کردیا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی شعبے کے لئے باصلاحیت لوگوں کی کبھی کوئی کمی نہیں رہی ہے ۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ماضی اور حال پر اگر نظر ڈالی جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو شہید سے لیکرآغا شاہی تک اور پھرسرتاج عزیز، صاحبزادہ یعقوب علی خان، خورشید محمود قصوری، مخدوم شاہ محمود قریشی، بلاول بھٹو زرداری ،حنا ربانی کھر کے علاوہ کئی دوسرے لوگوں نے بھی وزیر خارجہ کی حیثیت سے اپنی اپنی استعداد اور صلاحیتوں کے مطابق ملک کے لئے شاندار خدمات انجام دی ہیں ۔ پاکستان صرف زرخیز زمین رکھنے والا ایک خطہ نہیں بلکہ قدرت نے اسے زرخیز ذہن رکھنے والے لاتعداد باصلاحیت لوگوں سے بھی نوازا ہے ۔
تحریر بشکریہ: استاد محترم محمد منیرالدین صاحب


Comments

Popular posts from this blog

Get out of the world of assumptions.

Russian war costs rise to unprecedented new heights ,