Why did Arab countries give bases to the United States?
.jpeg)
عرب ممالک نے امریکہ کو اڈے کیوں دئے؟
ہمارے اکثر دوست سب سے زیادہ اعتراض اسی نکتہ پر کرتے ہیں کہ چونکہ عربوں نے امریکہ کو فوجی اڈے دئے ہیں اور اب امریکہ کے تحت ہیں یہ اڈے ، اس وجہ ایران کو ان اڈوں پر حملے کرنے کا حق ہے۔
آئیے ، آج ذرا ہم دیکھتے ہیں کہ عربوں نے امریکہ کو اڈے کیوں دئے ؟
پہلا نکتہ: : پہلا نکتہ ہم یہاں سے شروع کرتے ہیں کہ عربوں نے امریکہ کو اڈے دئے کب؟
تو عرض ہے کہ مختلف سالوں میں دئے۔
جن کی مختصر تفصیل ہم عرض کرتے ہیں۔
سعودیہ: سعودی کنگ عبدالعزیز نے روزویلٹ سے 1945 میں ملاقات کی اور تیل کے نکالںے اور ان کی حفاظت کا بنیادی ایشو ڈسکس ہوا، جس کے تحت 1951 میں dharan airfield باقاعدہ استعمال کرنے کی اجازت مل گئی۔۔
تاہم سب سے پہلا امریکی اڈا بحرین میں 1948 میں بنا جو آج US FIFTH FLEET کا ہیڈکوارٹر ہے، جسے ایران نے پچھلے دنوں خوب نشانے پر رکھا۔
تیسرے نمبر پر عمان نے امریکہ کو 1980 میں اڈے دئے جب افغانستان میں سرخ ریچھ گھس آیا تھا اور اس کے گرم پانیوں تک پہنچنے کے نعروں نے پاکستان تا امریکہ تھرتھلی مچائی ہوئی تھی۔۔
چوتھے نمبر پر امارات نے 1990 میں امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرکے الدفرہ ائیر بیس دیا۔
پانچویں نمبر پر 1992 میں قطر نے امریکہ کیساتھ دفاعی معاہدہ کیا اور یہاں پر امریکہ کا سب سے بڑا بیس العدید ائیر بیس بنایا گیا۔
چھٹے نمبر پر کویت نے عراق جنگ کے موقع پر 1991 میں امریکہ کو کھلی اجازت دیدی۔۔
ساتویں نمبر پر 2000 میں اردن نے امریکہ کو اڈے دئے۔ اسی طرح
عراق جنگ کے بعد امریکہ نے وہاں ازخود اڈے بنائے۔
2: اگلا نکتہ یہ سمجھ لیجئے کہ ان ممالک کی آبادی ان اڈوں کے دیتے وقت اور آج کتنی ہے، تاکہ ہم اگلے مرحلے تک پہنچتے پہنچتے سمجھدار بن سکیں۔
1: سعودیہ میں اڈے دیتے وقت 1945 میں سعودیہ کی مقامی آبادی تیس سے چالیس لاکھ تھی جبکہ آج یہ مقامی آبادی دو سے سوا دو کروڑ ہے اور کل آبادی لگ بھگ ساڑھے تین کروڑ ہے۔
2:بحرین میں 1948 میں سوا لاکھ آبادی تھی مقامی جبکہ آج آٹھ لاکھ ہے اور کل آبادی پندرہ لاکھ کے راؤنڈ اباؤٹ ہے۔
عمان میں 1980 میں اڈے دیتے وقت مقامی آبادی بارہ لاکھ تھی، آج تیس لاکھ ہے اور کل آبادی پینتالس لاکھ ہے
متحدہ امارات کی 1990 میں اڈے دیتے وقت مقامی آبادی ساڑھے چار لاکھ تھی، آج بارہ لاکھ ہے جبکہ کل آبادی ایک کروڑ ہے۔
قطر کی 1996 میں اڈے دیتے وقت مقامی آبادی سوا لاکھ تھی، آج چار لاکھ کے لگ بھگ ہے اور کل آبادی تیس لاکھ تک ہے
کویت کی آبادی 1991 میں چھ لاکھ جبکہ آج چودہ لاکھ ہے اور کل آبادی چوالیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔
جبکہ اردن کی 2000 میں مقامی آبادی پینتالس لاکھ تھی، جو آج ایک کروڑ ہے جبکہ کل آبادی ایک کروڑ بارہ تیرہ لاکھ ہے۔
یاد رہے کل آبادی میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔۔
اب اگلی بات سمجھئے کہ عام طور پر کل آبادی کا پچیس فیصد فوجی زندگی کے قابل ہوسکتا ہے یعنی اٹھارہ سے چالیس سال کے درمیان ہوتا ہے، جن میں سے چالیس فیصد ہی عملی طور پر فوجی بننے کے قابل ہوتے ہیں۔ یعنی آسانی سے کل آبادی کا دس فیصدی فوج بن سکتی ہے۔۔
اب آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ
عرب ریاستوں کی آبادی اس قدر کم تھی اور ان کے پاس قدرتی وسائل اس قدر کثرت سے تھے کہ وہ ان کی خود حفاظت کر ہی نہیں سکتے تھے۔
سو اڈے دینے کی پہلی وجہ یہ بنی کہ عرب ریاستوں کی اپنی آبادی کم تھی
دوسری وجہ یہ کہ ان کے پاس دنیا کا سب سے قیمتی اثاثہ تیل اور گیس کی صورت میں موجودہ تھا، جس کا دفاع ان کے لئے کم آبادی کی وجہ سے ممکن نہ تھا۔ جبکہ پوری دنیا ان وسائل پر جھپٹنے کے لئے تیار تھی۔ سرخ ریچھ گرم پانیوں تک پہنچنے کے لئے پوری کوشش کررہا تھا۔۔
عراق میں کمیونسٹ صدام برسر اقتدار تھا، جو کویت پر حملہ کرکے عملاً بتا چکا تھا کہ وہ کسی کی پرواہ نہیں کرے گا۔ عین سامنے خلیج فارس پر فارسی سلطنت ولایت فقیہ کا لبادہ اوڑھ کر پنچ ہزار سالہ تاریخ کو زندہ کرنے نکل چکی تھی۔
عین پیچھے اسرائیل کی توسیع پسندانہ قوت پنجے کھولے کھڑی تھی۔
ایسے میں وہ خود حفاظت کر نہیں سکتے تھے، لہذا کسی طاقتور کو شامل کئے بغیر گذارا نہیں تھا۔ دوسری طرف امریکہ کو اس انرجی کی ضرورت بھی تھی اور وہی دنیا کا واحد سپرپاور بھی تھا اور روس کی حالت یہ تھا کہ غراتا ہوا ایک سے دوسرے ملک میں گھسا جارہا تھا۔۔جبکہ چین تب اتنا مضبوط نہیں تھا، ہوتا ، تو بھی اس کا طریقہء کار مختلف رہا ہے، سو عربوں کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ امریکہ سے معاہدہ کرتے، جیسا کہ انہوں نے کیا۔ ظاہر ہے امریکہ سپر پاور تھا ، تو اس نے اپنا فائدہ بھی دیکھا۔
نیز دفاعی معاہدات دو طرفہ ہوتے ہیں،کچھ لو اور کچھ دوکی بنیاد پر ہوتے ہیں۔
سو اگر ان اڈوں سے ایک طرف ان خلیجی عرب ممالک کو سیکورٹی کا فائدہ ہورہا ہے، جو یقیناً ہورہا ہے کہ اس کم آبادی اور اتنے کثیر وسائل کے ساتھ یہ کسی بھی طالع ازما کا لقمہ بن سکتے تھے بلکہ اب بھی بن سکتے ہیں۔۔
تو دوسری طرف یہ بھی جان لیجئے کہ دفاعی معاہدے ہمیشہ دو طرفہ ہوتے ہیں۔ آپ کو بھی بوقت ضرورت ڈیلیور کرنا ہوتا ہے۔۔جیسے پاکستان اور سعودیہ کا معاہدہ ہے۔ اب موجودہ ایرانی رجیم کا جانا بظاہر پاکستان کے لئے نقصان دہ ہے۔ اس وجہ سے پاکستان چاہتا ہے کہ موجودہ رجیم چلتی رہے، لیکن اگر سعودیہ کسی وقت برداشت کھو کر جنگ میں کودتا ہے تو پاکستان کو خواہی نخواہی معاہدے کی وجہ سے دامے درمے ساتھ دینا پڑے گا۔
اسی طرح اگر عرب خلیجی ممالک امریکہ کی موجودگی کی وجہ سے ہر کہ و مہ کے دستبرد سے بچے ہوئے ہیں ، تو اگر امریکہ پر بن آتی ہے تو پھر ان کو بھی امریکہ کا ساتھ دینا پڑے گا، سعودیہ، عمان، بحرین، قطر ، یو اے ای سب کے امریکہ کے ساتھ بائی لیٹرل دفاعی معاہدے ہیں۔۔
معاہدے کیوں ہیں؟ امید ہے اب یہ تو سمجھ آگئی ہوگی کہ معاہدے کیوں کئے تھے؟ کیونکہ مقامی آبادی کم تھی، خود دفاع نہیں کرسکتے تھے، تیل گیس کے ذخیرے بےیارومددگار پڑے تھے،جغرافیہ انتہائی حساس تھا اور دشمن بکثرت اور پہلو میں تھے، اس وجہ سے یہ معاہدے ان کی سروائیوال کا ذریعہ بنے۔ خود ان ممالک کی حالت یہ تھی سادہ الفاظ میں کہ یہ ممالک سٹیٹس کم اور اسٹریٹیجک ایسٹس کی حیثیت زیادہ رکھتے ہیں۔۔ سو عربوں نے یہ اڈے شوق میں نہیں بلکہ زندہ رہنے اور تحفظ پانے کی ضرورت کے لئے دئے۔
اور باقاعدہ باہمی معاہدات ہوئے، جن کی وجہ سے اب وہ امریکہ کی مشکل میں اس کا ساتھ دینے کو بھی مجبور ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا اب یونی پولر نہیں رہی اور عربوں کو بھی احساس ہوگیا ہے کہ ان معاہدات کی وجہ سے ان کو فائدہ کم ہوا ہے اور امریکہ نے ان کو لوٹا زیادہ ہے۔اس وجہ سے یہ لوگ ان سے باہر نکلنا بھی چاہتے ہیں ،لیکن یہ دو طرفہ معاہدے ایک طرف سے ختم نہیں کئے جاسکتے اور پھر جبکہ ان کے پاس متبادل قوت بھی نہ ہو، تو امریکی اتحاد سے نکلنے کی صورت میں دوہرے نقصان کا خدشہ ہے کہ امریکہ بھی دشمن بن جائے گا اور دوسرا معتمد رفیق بھی میسر نہ ہوگا۔۔
پھر انہوں نے گزشتہ بیس سالوں سے اپنی جو شکل بنائی ہے، اس کے تحت یہ نہ جنگ کرسکتے ہیں نہ ہی کسی طور پر جنگ افورڈ کرسکتے ہیں۔۔ کیونکہ انہوں نے پٹرول کے بعد اگلا سارا زور ٹورازم پر لگایا ہے۔۔اور ٹورازم کے لئے امن بےحد ضروری ہے۔۔اور امن تو بندوق کی محض ایک گولی سے اڑ جاتا ہے۔
اور ہر طرح کے جنگ سے بچاؤ ابھی تک ان کو امریکہ ہی دیتا آیا ہے۔ اب یہی دیکھ لیں کہ اسرائیل امریکہ کا کتنا قریبی ہے، لیکن جب اسی اسرائیل نے قطر پر میزائل مارے تو امریکہ نے باقاعدہ اس سے معافی منگوائی۔۔
تو امید ہے اب یہ بات واضح ہوگئی ہوگی کہ عربوں نے امریکہ کو اڈے کیوں دئے اور وہ امریکہ کو ان اڈوں سے باہر کیوں نہیں کرسکتے ؟ جو زیادہ سے زیادہ کرسکتے ہیں وہ یہی کہ ایران ان اڈوں پر حملہ کرتا اور یہ زبانی کلامی تحفظات کا اظہار کرکے خاموش رہتے، لیکن ایران نے تو ان اڈوں سے ہٹ کر تمام خلیجی ممالک کو باڑ پر رکھ لیا ہے۔ اس لئے اب خلیجی ممالک کے لئے اس کے علاوہ کوئی رستہ نہیں رہا کہ وہ سچ مچ امریکہ کیساتھ مل کر ایران کا مکو ٹھپ لیں۔۔
ایک آخری ممکنہ سوال کا جواب بھی سنتے جائیں۔ کہ جب یورپ کے چھوٹے چھوٹے ممالک اور کم آبادی والے ہیں، ان کو تو اس قدر تحفظ کی ضرورت نہیں، تو عربوں کو کیوں ہے؟ جواب یہی ہے کہ بےشک اننکی آبادیاں بھی چھوٹی ہیں، لیکن ان کے پاس نہ تیل ہے، نہ خلیج ہے اور نہ ہی آگے پیچھے ایران اور اسرائیل ہیں، کچھ آگےچین بھی نہیں ہے۔ جبکہ وربوں بےچاروں کو حساس جغرافیے اور بےتحاشا وسائل نے مشکل میں ڈالا ہوا ہے۔۔
سوال یہ ہے کہ عرب امریکہ کیساتھ معاہدہ نہ کرتے تو کیا اس ایران کے ساتھ کرلیتے ، جس نے پہلے بیروت و لبنان میں شیعہ سنی جھگڑا کرکے سنیوں کو مروایا، پھر عراق میں پہلے اسرائیل اور دوبارہ امریکہ کیساتھ مل کر عربی سنیوں کو مروایا، پھر شام میں اسدیوں اور روس کیساتھ مل کر عرب اہل السنۃ کو مروایا، پھر یمن میں حوثیوں کیساتھ مل کر عرب اہل سنۃ کو مروا رہا،اب بحرین کے شیعوں کیساتھ مل کر عربوں کو مروا رہا؟
اس ایران کے بارےمیں کوئی عرب کیسے مطمئن ہوسکتاہے کہ یہ اچھا بچہ بن کر رہ سکتا ہے۔۔؟
سو صرف اتنی سی بات جاننی کافی نہیں کہ عربوں نے امریکہ کو اڈے دے رکھے ہیں ، یا امریکہ ایران کو تباہ کررہا ہے اور عرب اس کی مدد کرنے کی بجائے امریکہ کو اڈے دئے بیٹھے ہیں۔
بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اڈے کیوں دئے؟ کن حالات میں دئے اور ایران کا عربوں سے کیسا سلوک رہاہے، جس کی وجہ سے آج عرب چاہ کر بھی امریکہ کو روک نہیں سکتے۔ باقی ایران کیونکر عربوں کو اس جنگ میں نقصان پہنچاتا آرہا ہے، اس پر ہم پہلے سے بات کرتے آئے ہیں۔۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ممالک مسلمہ میں امن و امان کی صورت پیدا فرمائے اور ہم سب کو عافیت والی زندگی عطا فرمائے۔ آمین
Comments
Post a Comment