US threatens Canada for allowing Chinese vehicles .


 چینی گاڑیوں کی اجازت دینے پر امریکا کی کینیڈا کو دھمکی

کینیڈا اپنی مارکیٹ میں چینی گاڑیوں کو لانے کے فیصلے پر ضرور نظرِ ثانی کرے گا، امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹیشن
امریکی حکام نے جمعے کو کہا کہ کینیڈا کی جانب سے چین سے انچاس ہزار تک الیکٹرک گاڑیاں درآمد کرنے کی اجازت ایک غلط فیصلہ ہے، جس پر اسے بعد میں افسوس ہوگا۔

رائٹرز کے مطابق امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹیشن شان ڈفی نے اوہائیو میں فورڈ فیکٹری کے دورے کے دوران دیگر سرکاری حکام کے ہمراہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا اپنی مارکیٹ میں چینی گاڑیوں کو لانے کے فیصلے پر ضرور نظرِ ثانی کرے گا اور اسے اس پر پچھتاوا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ گاڑیاں امریکا میں داخل نہیں ہوں گی۔

کینیڈا نے 2024 میں چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، جو امریکا کی جانب سے لگائی گئی ڈیوٹی کے مماثل تھا۔ تاہم حالیہ فیصلے کے تحت محدود تعداد میں چینی الیکٹرک گاڑیوں کی اجازت دیے جانے پر امریکا میں تشویش پائی جاتی ہے کہ اس اقدام سے چین کو شمالی امریکا میں اپنے قدم جمانے کا موقع مل سکتا ہے، ایسے وقت میں جب واشنگٹن کینیڈین گاڑیوں اور پرزہ جات کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتا جا رہا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے کہا کہ محدود تعداد میں چینی گاڑیوں کی اجازت سے امریکی آٹو کمپنیاں متاثر نہیں ہوں گی جو کینیڈا کو گاڑیاں برآمد کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں توقع نہیں کہ اس سے کینیڈا میں امریکی گاڑیوں کی سپلائی میں خلل آئے گا، کیونکہ یہ گاڑیاں کینیڈا جا رہی ہیں، امریکا نہیں۔

واشنگٹن میں کینیڈین سفارت خانے نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

جیمی سن گریئرنے سی این بی سی انٹرویو میں کینیڈا کے فیصلے کو مبھم قرار دیا اور کہا کہ امریکا میں چینی گاڑیاں کم فروخت ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ امریکی آٹو ورکرز اور صارفین کے تحفظ کے لیے بھاری ٹیرف عائد کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب، کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ نئے معاہدے کے تحت انہیں توقع ہے کہ چین یکم مارچ تک کینیڈا کی کینولا سیڈ پر ٹیرف کم کر کے مجموعی طور پر پندرہ فیصد تک لے آئے گا۔ تاہم جیمی سن گریئر نے اس معاہدے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ طویل مدت میں کینیڈا کو اس فیصلے پر بھی خوشی نہیں ہوگی۔

گریئر نے مزید کہا کہ جنوری 2025 میں نافذ کیے گئے وہ قواعد، جو انٹرنیٹ سے منسلک اور نیویگیشن سسٹمز والی گاڑیوں سے متعلق ہیں، امریکی مارکیٹ میں چینی گاڑیوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان کے مطابق امریکا میں گاڑیوں اور ان کے نظاموں کے لیے سائبر سیکیورٹی سے متعلق سخت قوانین موجود ہیں، جن پر چینی کمپنیوں کے لیے عمل کرنا مشکل ہوگا۔

اس کے برعکس صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس خواہش کا اظہار کر چکے ہیں کہ چینی آٹو ساز کمپنیاں امریکا میں آ کر گاڑیاں تیار کریں۔ تاہم امریکی کانگریس میں دونوں بڑی جماعتوں کے ارکان نے چینی گاڑیوں کی سخت مخالفت کی ہے، جبکہ بڑی امریکی آٹو کمپنیاں بھی چین کو امریکی آٹو سیکٹر کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہیں۔

واضح رہے کہ کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے جمعے کے روز چینی صدر شی جن پنگ سے بات چیت کے دوران بتایا کہ اوٹاوا اور بیجنگ ایک نئی اسٹریٹجک شراکت داری قائم کر رہے ہیں جس سے دونوں ممالک کو تاریخی فوائد حاصل ہوں گے۔

کینیڈا اور چین نے ایک ابتدائی تجارتی معاہدہ بھی طے کیا جس کے تحت الیکٹرک گاڑیوں اور کینولا پر عائد بھاری ٹیرف میں نمایاں کمی کی جائے گی۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے دورۂ چین کے دوران دونوں ممالک نے تجارتی رکاوٹیں ختم
کرنے اور نئے اسٹریٹجک تعلقات استوار کرنے کے عزم کا اظہار کیا
گیا۔
    
| aaj.tv |

To Zoom In Or Out

| Ctrl + Or Ctrl - |

Comments

Popular posts from this blog

changez khan (چنگیز خان ): -

Get out of the world of assumptions.