USA and Israel War With Ian ,

 


جن لوگوں نے ایران جنگ کی آگ لگائی ہم جانتے ہیں ان کا ہدف ایران کا نیوکلیئر پروگرام نہیں بلکہ ترک عرب کرد فارس مسلمانوں کو آپس میں لڑانا ہے
ترک انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن
اگر آپکو یاد ہو تو اس جنگ کے آغاز میں یہی بات کہی تھی کہ ایران کا ایٹمی پروگرام تو بس ایک بہانہ ہے ، مسلم دنیا کو آپس میں گتھم گتھا کر کے بیچ سے نکل جانا اصل نشانہ ہے اس تمام پلان میں ایران کے ساتھ پاکستان میں بھی فرقہ ورانہ اور عرب دنیا میں صدیوں پرانی عرب فارس چپقلش کو دوبارہ زندہ کیے جانا تھا جس پہ دشمنوں کو شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ترک انٹیلیجنس چیف کا بیان ذرا گہرے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں ، موجودہ ترک انٹیلیجنس چیف سے قبل اس زمہ داری پہ جناب "حکان فدان" براجمان تھے ، جی یہ وہی حكان فدان ہیں جو اس وقت بطور وزیر خارجہ (ترکی) اپنی ذمےداریاں انجام دے رہے ہیں اور یہ وہی وزیر خارجہ ہیں جن کے کل کے بیان نے صیہونیوں کی نیند حرام کر رکھی ہے۔
گزشتہ روز حکان فدان نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ پاکستانی بھائیوں کی مصروفیات کی وجہ سے ترکی ، سعودیہ اور مصر کے وزیر خارجہ بروز اتوار پاکستان جائیں گے جہاں حالیہ جنگی صورتحال سمیت مستقبل کے ایک نئے بلاک کے قیام کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔
کہنے کو یہ چند سطور پہ مشتمل بیان تھا پر اسکی حیثیت ٹھیک اسی وقت جیسی ہے جو آج سے عشروں قبل شہزادہ فیصل ، معمر قذافی و ذوالفقار علی بھٹو جیسے رہنماؤں کا مسلمان ممالک کا ایک مضبوط پلیٹ فارم بنانے کا فیصلہ کرنے کا تھا۔ دوسری جانب ترکی کی جانب سے ایک اہم پیٹرن کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ کس طرح صیہونی طاقتیں مسلم ممالک میں پراکسیز یا بکاؤ گروپس کے ذریعہ انتشار پیدا کر کے اُنہیں اندر سے کھوکھلا کرتی ہیں اور جب اندرونی انتشار سے وہ ملک کمزور ہونے لگتا ہے تو پھر باقاعدہ جنگ کا آغاز کردیا جاتا ہے. ہمارے سامنے اسکی واضح مثالیں موجود ہیں
ترکی میں کرد مسئلہ
ایران میں اندرونی لبرل تقسیم
پاکستان میں شدت پسند گروپ و افغان ط البان
پاکستان کے حوالے سے تو آج ہی بین الااقوامی خبر رساں ایجنسی نے بھارت اور افغانستان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پہ مشتمل ایک ایسے نیٹورک کو بے نقاب کیا ہے جو جنگ کے آغاز سے ہی ایران کے نام سے فیک اکاؤنٹس بنا کر پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کا کام کر رہا تھا جس میں (حسن ظن رکھتے ہوئے کہنا چاہوں گا) ہمارے کُچھ دوست اپنی نادانی کی وجہ سے استعمال بھی ہوتے رہے ہیں۔
دوسری جانب سعودیہ سے ان طاقتوں کو ایک بڑی شکایت یہ بھی ہے کہ وہاں مسلسل تنصیبات پہ حملے ہورہے ہیں پر سعودیہ ایران کے خلاف اعلان جنگ کیوں نہیں کر رہا ؟
اور یہ جو حملے ایران سعودی سرزمین پہ کر رہا ہے یہ واقعی ایران حملے کر رہا ہے یا سعودیہ حملے ہونے دے رہا ہے ؟
اس سب کے پیچھے کیا حقیقت ہے یہ سمجھنے والے بخوبی سمجھ رہے ہیں !
ایک بات اب واضح ہوتی جا رہی ہے
خطے کی سیاست ایک بڑے موڑ پر ہے۔
اگر یہ نیا اتحاد بن جاتا ہے تو نہ صرف طاقت کا توازن بدل جائے گا بلکہ مسلم دنیا میں انتشار پھیلانے والی قوتوں کے لیے زمین تنگ ہو جائے گی۔
اور بہت ممکن ہے کہ ایران کے خلاف جاری یہ جنگ…
صیہونی فتنے کی آخری بڑی جنگ ثابت ہو۔ ان شاء اللّٰہ
ملک جہانگیر اقبال

Comments

Popular posts from this blog

Get out of the world of assumptions.

Russian war costs rise to unprecedented new heights ,